لاہور: پولیس نے الیکڑیشن پر پالتو شیر چھوڑنے کے الزام میں امام بارگاہ کے نگراں کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کردیا۔
پولیس کے مطابق 9 ستمبر کو پیش آنے والے اس واقعے میں الیکڑیشن کو متعدد زخم آئے۔
مزید پڑھیں: غیر قانونی طریقے سے شیر پالنا مالک کو مہنگا پڑ گیا
پولیس کے ذرائع نے تفیصلات بتائیں کہ امام بارگاہ صدائے امام حسین کے نگراں علی رضا کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ الیکڑیشن پر پالتو شیر چھوڑنے کا واقعہ ایک ماہ قبل پیش آیا لیکن شکایت 2 روز قبل درج کرائی گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’الیکڑیشن گزشتہ ایک ماہ سے اپنے معاوضے کا تقاضہ کررہا تھا‘۔
شکایت کنندہ محمد رفیق نے بتایا کہ وہ علی رضا کے خلاف شکایت درج کرانے پر اس وقت مجبور ہوا جب مشتبہ ملزم نے وعدہ خلافی کی اور زخموں کا علاج کرانے اور معاوضے کی ادائیگی سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور : 11 سالہ ملازمہ پر تشدد میں ملوث میاں بیوی گرفتار
ایف آئی آر کے مطابق علی رضا نے امام بارگاہ میں کام کرانے کے لیے الیکڑیشن کی خدمات حاصل کیں، کام ختم کرنے کے بعد جب رفیق نے معاوضے کا تقاضہ کیا تو علی رضا نے ادائیگی کے لیے چند روز بعد آنے کا کہا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’نگراں علی رضا نے متعدد مرتبہ رفیق کو بلا کر ادائیگی نہیں کی اور ایک دن جب الیکڑیشن رفیق نے رقم کی ادائیگی کے لیے اصرار کیا تو علی رضا نے پالتو شیر اس پر چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں الیکڑیشن کے چہرے اور بازو پر گہرے زخم آئے‘۔
شکایت کنندہ نے کہا کہ حملے کے دوران مشتبہ ملزم اور اس کے تین ساتھی محض تماشائی بنے رہے اور شیر سے بچانے کے قعطاً کوشش نہیں کی۔
مزید پڑھیں: رقص سے انکار، شوہر کا ملازمین کے ساتھ مل کر بیوی پر بہیمانہ تشدد
رفیق نے بتایا کہ اس دوران چیخنے چلانے کی وجہ سے راہ گیر متوجہ ہوئے اور ان کی مداخلت پر شیر کو پیچھے ہٹایا گیا۔
واقعہ کی تصدیق کے بعد پولیس نے علی رضا کے خلاف پاکستان پینل کوڈ دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔




